انصاف حکومت سنبھل جاؤ

انصاف حکومت سنبھل جاؤ ٹرین پٹری سے گر رہی ہے!

تحریر: محمد حسن جمالی

کسی بھی حکومت کی پہلی فرصت کی کارکردگی اس کے زوال اور بقا کے لئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے - وہ حکومت جس نے اولین فرصت میں مثبت کارنامہ دکھایا، قوم کی توقع پر اترنے کی کوشش کی، انصاف کی رعایت کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا عملی مظاہرہ کیا، الیکشن کے دوران عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کیا، قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے داخلی اور خارجی پالیسیاں مرتب کرنے کو یقینی بنایا، ملی اور قومی مسائل کی ترجیح کو عملی کردکھایا، قومی مذہبی اور لسانی تعصبات کا خاتمہ کرکے ساری قوم کو ایک ہی نگاہ سے دیکھنے کا شیوہ اپنایا بدون تردید اسے دوام اور استحکام ملے گا لیکن اس کا برعکس وہ حکومت جو اپنے ابتدائی دور میں ہی عدل وانصاف کو نادیدہ قرار دے کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے، قومی مسائل سے آنکھ چرائی جاتی ہے، فرقہ واریت اور تعصب کے بل بوتے پر اداروں میں نظام چلانے کو اپنی شناخت قرار دیتی ہے، اداروں میں قابلیت اور صلاحیت کو معیار بنانے کے بجائے سفارش اور رشوت کو معیار بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے، ملک کے اندر امیر اور غریب کے لئے یکساں قانون نافذ کرنے کے بجائے جداگانہ قانون اجراء کرنے کا شیوہ اپناتی ہے، ظالم اور مظلوم کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے میں کوشاں رہتی ہے ایسی حکومت کو نہ فقط دیرپا استحکام نہیں ملتا ہے بلکہ اس کا زوال اور نابودی قطعی ہے-


پاکستانی قوم نے سابقہ حکومتوں کی نااہلی سے تنگ آگر 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ دیا ، عمران خان کو کامیاب کرکے برسر اقتدار لایا ،جس سے موروثی سیاست کی کمر ٹوٹ چکی ، عوام کو امید کی کرن دیکھنے کو ملی، غریب طبقوں نے تحریک انصاف کی کامیابی پر جشن تک منایا، جب نئے وزیر اعظم نے اپنے پہلے خطاب میں ہی ملک کے اندر وبائی مرض کی شکل اختیار کی ہوئی کرپشن کے خلاف پھرپور مہم چلانے کا عندیہ دیا تو پاکستانی قوم کی خوشی میں مذید اضافہ ہوا،


تحریک انصاف کی حکومت نے مختصر مدت میں کرپشن میں ملوث کچھ بڑے زہریلے سانپوں کو گرفتار کرکے نمایاں کارنامہ انجام تو دیا لیکن کچھ دلسوز واقعات پاکستان کی سرزمین پر ایسے پیش آئے جنہیں دیکھ پڑھ اور سن کر ہر پاکستانی یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ انصاف حکومت سنبھل جاؤ ٹرین پٹری سے گررہی ہے ، سابقہ حکومتوں کی قبیح حرکتیں اور سنتیں دوبارہ زندہ ہورہی ہیں، عدل و انصاف کا جنازہ نکل رہا ہے، فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کو تقویت مل رہی ہے، مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے والے عناصر کی سرگرمیاں تیزتر ہورہی ہیں، قوم کو تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر انصافی کی فراہمی کو یقین بناکر دم لینے کے دعویدار تحریک انصاف کی حکومت بھی اہلبیت عصمت وطہارت سے محبت رکھنے والوں کے دشمنوں کے اشارے پر چلنے پر مجبور دکھائی دے رہی ہے جس پر واضح دلیل محب پاکستان ،شیعہ قوم کے ترجمان جناب سید فیصل رضا عابدی کو آواز حق بلند کرنے کے جرم میں جیل کی تنگ کوٹھری میں بند کرنا ہےـ

کیا یہ ظلم نہیں کہ جس بندے نے ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کی بات کی ہے، انسانیت کے دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے جدوجہد کی ہے ،دہشگرد ٹولے کے اہداف کو ناکام بنانے کے لئے متحرک رہے ہیں، حکمرانوں کے دھرے معیار کے خلاف بولتے رہے ہیں اسے توحکومت کے کارندے پکڑ کر قید کرلیں ،مگر محترم چیف جسٹس کو مجمع عام میں کھل کر گالیاں دینے سمیت اعلی عدلیہ وپارلیمنٹ کے خلاف آشکارا طور پر بولنے والوں کو جیل کے قیدی بنانا تو درکنار ان کے خلاف ایکشن تک لینے کی ذمہ دار ان جرات نہ کریں ـ


فیصل رضا عابدی کو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ نہ کوئی دہشتگرد ہے اور نہ ہی کرپشن میں ملوث فرد ـ ہاں وہ منطق اور برہان کے ذریعے مصلحت کا شکار ہوئے بغیر بڑی دلیری اور شجاعت سے دہشتگردوں اور کرپشن میں ملوث کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بول کر انہیں بے نقاب کرکے ان کی نیندیں اڑانے والے ضرور ہیں، ظالموں کے خلاف اور مظلوم کی حمایت میں وہ آواز بلند کرتے رہے ہیں ،طالبان اور داعش سمیت مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے والوں کی سرکوبی کے لئے وہ کوشاں رہے ہیں، حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی جرات کا وہ کھل کر مظاھرہ کرتے رہے ہیں ـ


ہمارے حکمران تھوڑے بھی خرد کے مالک ہوتے تو وہ فیصل رضا عابدی کو ان کی ان اچھی کارکردگیوں کے صلے میں تمغہ امتیاز سے نوازتے اور انہیں پاکستان کے نظام پر انگلی اٹھانے والوں کے سامنے نمونے کے طور پر پیش کردیتے مگر پاکستان میں تو ہمیشہ کنگا الٹی بہتی ہے!

ہم محترم چیف جسٹس پاکستان صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم کو انصاف فراہم کرنے کے لئے جناب عالی کا کردار قابل ستائش ہے ہم تعریف کرتے ہیں مگر ہم اس بات کے ہرگز معتقد نہیں کہ جناب والا فرشتہ اور غلطی واشتباہات سے منزہ ہیں ـ نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ ہم آپ کو انسان ہی سمجھتے ہیں جناب عالی سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں جب ایسا ہے تو آپ کو چاہیے کہ تنقید سننے کا تحمل اپنے اندر پیدا کریں، ظاہر ہے جتنا انسان کا عہدہ بڑا ہوتا ہے اسی حساب سے اس پر تنقیید بھی زیادہ ہوگی، جناب عالی کا کمال یہ نہیں کہ فیصل رضا عابدی جیسے جائز تنقید براے اصلاح کرنے والوں کو منصبی طاقت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے زندانی کروائیں بلکہ ہنر تو یہ تھا کہ آپ فیصل رضا عابدی کی تنقید کو توہین پر محمول کرکے اسے قید کروانے کے بجائے ان کے اعتراضات کو تحمل سے سن لیتے اور اپنے روئے کی اصلاح کرنے کا عندیہ دے کر اپنے منصف ہونے کو ثابت کردیتے مگر اس کے بجائے آپ نے فیصل رضا عابدی کی جائز تنقید کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے اسے قید کروا کر ملت پاکستان کو اپنے منتقم ہونے کا کھلا مظاھرہ کردیا ہے جس پر ساری قوم مایوسانہ انداز میں تعجب سے آپ کو دیکھ رہی ہے اور پاکستانی عوام کے ذہنوں میں جناب عالی کی ساکھ میں کمی واقع ہورہی ہے لہذا آپ کی عزت اسی میں ہے کہ جلد از جلد فیصل رضا عابدی کو رہا کروائیں ـ


تحریک انصاف حکومت کی اولین فرصت میں واضح طور پر نواز حکومت کے مظالم کا تکرار دیکھنے میں آرہا ہے ـ نواز شریف نے آل سعود کے ایما پر حسین ابن علی(ع)کے چاہنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ، عتبات عالیہ کی زیارات کے لئے ایران اور نجف جانے والے محب اہلبیت مسلمانوں کو تفتان بارڈر پر جسمی اور روحی اذیت وآزار سے دوچار کروایا جاتا رہا اور آج انصافی حکومت بھی حب الحسین یجمعنا کا شعار بلند کرتے ہوئے مراسم اربعین میں شرکت کرنے کے خواہشمند شیعہ سنی مسلمان زائرین کو تفتان بارڈر پر روک کر اپنے غنڈوں کے ذریعے اذیتوں سے دوچار کراوائی جارہی ہی ہے یہاں تک کہ سندہ بلوچستان کے بارڈر پے بد مست شرابی ایس ایچ او کی جانب سے گاڑی کے نیچے کچل کر ایک زائرہ بنام زبیدہ خانم کو شھید کرنے کا جانسوز واقعہ پیش آیا اور17 اکتوبر کو ضلع بہاولنگر تحصیل فورٹ عباس چک نمبر 242 سید شہزاد شاہ کے گھر میں خواتین کی مجلس تھی جہاں ایک وہابی ٹولے نے پولیس سے غنڈہ گردی کروائی بہت ساری مستورات کو بے دردی کے ساتھ تشدُد کا نشانا بنایا گیا جس کی باقاعدہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جس میں طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پولیس بدمعاشی کا مظاھرہ کر رہی ہے اور مستورت پر حملہ کر رہی ہے
یاد رہے یہ کوئی لیڈی پولیس نہیں تھی سب مرد اہلکار تھے اورمجلسِ عزا میں لاؤڈ اسپیکر بھی نہیں تھا علاوہ بر آں بہت سارے پھانسی کے حقدار بڑے بڑے دہشتگردوں کو خفیہ طور پر جیلوں سے رہا کرنے کی خبریں بھی میڈیا پر گردش کررہی ہیں چیف جسٹس کو چاہئے کہ ان ظالموں اور قاتلوں کو عبرتناک سزا دلوانے میں دیر نہ کریں ـ

حکومت وقت کی اب تک کی کارکردگیوں کے مجموعے سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ہم اس سے کہیں گے کہ انصاف حکومت سنبھل جاؤ ٹرین پٹری سے گررہی ہےـ


منبع این نوشته : منبع
حکومت ,انصاف ,کرنے ,ہوئے ,کرتے ,نہیں ,تحریک انصاف ,انصاف حکومت ,کرتے ہوئے ,جناب عالی ,حکومت سنبھل ,انصاف حکومت سنبھل